22 اکتوبر، 2026، 4:05 PM

فرانس میں احتجاج اور ریلیوں پر پابندی عائد، طالب علموں کے مظاہرے منسوخ

فرانس میں احتجاج اور ریلیوں پر پابندی عائد، طالب علموں کے مظاہرے منسوخ

احتجاجی مظاہروں میں شدت کے پیش نظر پیرس پولیس نے صدارتی محل اور حساس علاقوں میں اجتماعات پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرانسیسی حکام نے احتجاجی مظاہروں میں شدت آنے کے بعد دارالحکومت پیرس اور لیون میں آج ہونے والے تمام غیر اعلانیہ مظاہروں، ریلیوں اور طالب علموں کے احتجاجی اجتماعات پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق پیرس پولیس ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت کے متعدد حساس علاقوں میں صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک کسی بھی قسم کے اجتماعات کی اجازت نہیں ہوگی۔ پولیس حکام کے مطابق اس فیصلے کے تحت پیرس اور لیون میں طالب علموں کے دو بڑے مجوزہ مظاہرے بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

پیرس پولیس کے احکامات کے مطابق یہ پابندی خاص طور پر صدارتی محل، وزیراعظم کے دفتر، پارلیمنٹ، موزمِ لوور، مشہور شاہراہ شانزے لیزے، تمام ریلوے اسٹیشنوں اور اہم چوراہوں بشمول میڈانِ اٹلی، باستیل، جمہوریہ اور شاتلے پر لاگو ہوگی۔ فرانسیسی اخبار 'لو پیرزین' کے مطابق پولیس نے وضاحت کی ہے کہ گذشتہ مظاہروں کے دوران منتظمین تشدد کو روکنے میں ناکام رہے تھے جس کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ تمام اقدامات 17 اکتوبر کو مہنگائی، تعلیمی نظام کی خراب صورتحال اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے نظام کے خلاف ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد سامنے آئے ہیں۔

News ID 1942288

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha